پنجاب بھر میں عدالتی کارروائی کے بحران کا خدشہ: وکلاء برادری کا اہم فیصلہ!
کا RCMS
نوٹیفکیشن منسوخ ہوگا یا ہڑتال ناگزیر ہے؟
پنجاب بھر کی عدالتوں میں کیسز کی دائرگی کا عمل رک گیا، وکلاء برادری سڑکوں پر آنے کو تیار!
کیا RCMS نوٹیفکیشن منسوخ ہو گا یا پھر پنجاب بھر میں مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا جائے گا؟
نوٹیفکیشن کی تفصیلات:
پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز، مورخہ 11 جولائی 2026۔
پنجاب بار کونسل نے RCMS نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وکلاء کے حقوق کے تحفظ کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن سائلین اور وکلاء کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔
پنجاب بار کونسل نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ مورخہ 07-04-2026 کو جاری ہونے والا RCMS نوٹیفکیشن غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے۔ کونسل کے وفود نے بورڈ آف ریونیو سے متعدد ملاقاتیں کیں اور اس نوٹیفکیشن کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر 15 جولائی 2026 تک یہ نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو پنجاب بھر میں احتجاج اور ہڑتال کی جائے گی۔ 16 جولائی کو پنجاب بھر کی بار ایسوسی ایشنز احتجاجی کنونشن منعقد کریں گی۔ یہ فیصلہ وکلاء اور سائلین کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا ہے تاکہ عدالتی نظام میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
RCMS نوٹیفکیشن کے باعث پورے پنجاب میں کیسز دائر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پنجاب بار کونسل نے اس نوٹیفکیشن کو "Illegal" اور "Unlawful" قرار دیا ہے۔
اس اقدام سے سائلین کو پہنچنے والے نقصان پر وکلاء نے
گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
15 جولائی 2026 تک نوٹیفکیشن واپس نہ ہونے کی صورت میں سخت لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
درخواست گزار کی جانب سے نوٹیفکیشن مورخہ 07-04-2026 کو فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بورڈ آف ریونیو پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن مورخہ 07-04-2026 کو وکلاء کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، جسے واپس لینے کے لیے بار کونسل نے ڈیڈ لائن دی ہے۔

0 Comments