غیرت کے نام پر قتل کرنے والا اب راضی نامے سے نہیں بچے گا! آنر کلنگ اور معافی کے قانون پر لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ!

 غیرت کے نام پر قتل کرنے والا اب راضی نامے سے نہیں بچے گا! آنر کلنگ اور معافی کے قانون پر لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ!


ہمارے معاشرے میں "غیرت کے نام پر قتل" ایک ایسا ناسور ہے جس نے ہنستے کھیلتے گھر اجاڑ دیے۔ ماضی میں قاتل جرم کرنے کے بعد مقتول کے وارثوں (جو کہ اپنے ہی گھر والے ہوتے تھے) سے راضی نامہ کر کے قانون کی گرفت سے آسانی سے بچ نکلتے تھے، لیکن لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے اس راستے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔ اب ایسے مقدمات میں نجی صلح نامہ مجرم کی جان نہیں بچا سکتا۔

کیس کا اصل قانونی نکتہ کیا ہے؟

معزز لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے (PLD 2014 LHR 541) میں یہ پکا اور واضع اصول طے کیا ہے کہ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے مقدمات میں محض فریقین کے درمیان نجی راضی نامہ یا معافی ملزم کو رہا کروانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اس قسم کے سنگین اور معاشرتی جرائم میں صلح نامے کو قبول کرنا یا مسترد کرنا صرف اور صرف عدالت کا صوابدیدی (Discretionary) اختیار ہے۔ اگر عدالت سمجھے کہ جرم کی نوعیت وحشیانہ ہے، تو وہ راضی نامہ ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ملزم کو سخت ترین سزا دے سکتی ہے۔

اس تاریخی فیصلے اور قانون سے جڑی 4 سب سے اہم باتیں:

1۔ صلح نامہ اب ملزم کا پکا حق نہیں ہے

عام قتل کے کیسز میں اگر وارثان ملزم کو معاف کر دیں تو عدالتیں رعایت دے دیتی ہیں، لیکن غیرت کے نام پر قتل کو ریاست کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے۔ جج صاحب پر کوئی قانونی دباؤ نہیں ہے کہ وہ صلح نامہ آنے پر ملزم کو لازمی بری کریں، بلکہ عدالت ملزم کے سابقہ ریکارڈ اور جرم کی سنگینی کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔

2۔ قانون میں کی گئی ترامیم کا اثر

اس عدالتی نظیر کے بعد پاکستان کے قوانین (مجموعہ تعزیراتِ پاکستان) میں بھی سخت ترامیم کی گئیں، جن کے تحت اگر غیرت کے نام پر قتل کے کیس میں وارثان ملزم کو معاف بھی کر دیں، تب بھی عدالت "فساد فی الارض" کے تحت ملزم کو عمر قید (کم از کم 25 سال جیل) کی سزا دینے کی پابند ہے۔

3۔ معافی مانگنے اور دینے والے جب ایک ہی ہوں

عدالتِ عالیہ نے پایا کہ آنر کلنگ کے کیسز میں اکثر قاتل بیٹا یا بھائی ہوتا ہے اور معاف کرنے والا باپ یا ماں۔ ایسے میں انصاف کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون نے اب مقتول کے وارثوں سے یہ حق چھین کر ریاست اور عدالت کے ہاتھ میں دے دیا ہے تاکہ کوئی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے سکے۔

4۔ معاشرے کو عبرت کا نشان بنانا مقصود ہے

عدالت کا کام صرف دو فریقین کا جھگڑا ختم کروانا نہیں بلکہ معاشرے میں امن و امان قائم رکھنا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم میں سخت موقف اپنانے کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ کوئی بھی شخص "غیرت" کی آڑ لے کر کسی معصوم کی جان لینے کی جرات نہ کر سکے۔



یہ فیصلہ اور اس کے بعد ہونے والی ترامیم ان تمام ینگ وکلاء کے لیے ایک بہترین گائیڈ لائن ہیں جو ایسے مقدمات کی پیروی کرتے ہیں۔ اگر مخالف فریق ہائیکورٹ یا سیشن کورٹ میں راضی نامے کی بنیاد پر بریت کی درخواست دائر کرے، تو اس تاریخی فیصلے کا حوالہ دیں اور عدالت کو بتائیں کہ آنر کلنگ کے کیسز میں نجی صلح نامے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں جب تک عدالت خود اس کی اجازت نہ دے۔

کیا آپ کے خیال میں غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ملزمان کے لیے سزائے موت ہی واحد حل ہے تاکہ اس جرم کا مکمل خاتمہ ہو سکے؟

Post a Comment

0 Comments